سورۃ الفاتحہ کی تفسیر — قرآن کریم کی پہلی سورت کا مکمل مطالعہ
Tafseer of Surah Al-Fatiha — A Complete Study
سورۃ الفاتحہ قرآن کریم کی پہلی سورت ہے اور اسے ام الکتاب بھی کہا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس سورت کی آیات کی تفصیلی تفسیر کریں گے۔
سورۃ الفاتحہ کا تعارف
سورۃ الفاتحہ قرآن کریم کی پہلی سورت ہے۔ اس میں سات آیات ہیں اور یہ مکی سورت ہے۔ اسے ام الکتاب، سبع المثانی اور الحمد بھی کہا جاتا ہے۔
اس سورت کو ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا فرض ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا صلاۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب — جس نے سورۃ الفاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔
آیات کی تفسیر
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ — اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات رحمن اور رحیم کا ذکر ہے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ — تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ — بڑا مہربان، نہایت رحم والا۔
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ — روز جزا کا مالک۔ اس آیت میں قیامت کے دن پر ایمان کا اظہار ہے۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ — ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ یہ توحید کا اعلان ہے۔